تحریر: مولانا علی عباس حمیدی
حوزہ نیوز ایجنسی|
ایران محض ایک ملک نہیں، بلکہ تاریخ، تہذیب، فطرت اور انسانی عزم کی ایک زندہ تصویر ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے قلب میں واقع یہ سرزمین صدیوں سے تہذیبوں کا گہوارہ رہی ہے۔ یہاں کے پہاڑ، صحرا، دریا، زرخیز میدان، قدیم شہر، علمی مراکز اور مزاحمتی روح سب مل کر اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ ایران واقعی خدا کی قدرت کی ایک نمایاں علامت ہے۔
قرآنِ کریم میں بار بار انسان کو زمین و آسمان میں غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے، اور ایران کی جغرافیائی و تہذیبی ساخت اس غور و فکر کے لیے ایک وسیع میدان فراہم کرتی ہے۔
ایران کا جغرافیہ خود قدرتِ الٰہی کی ایک عجیب مثال ہے۔ شمال میں سرسبز و شاداب علاقے، جنوب میں گرم و خشک صحرا، وسط میں بلند پہاڑی سلسلے اور مختلف موسموں کا تنوع اس بات کی یاد دہانی ہے کہ قدرت نے زمین کو کس طرح توازن اور حکمت کے ساتھ بنایا ہے۔ البرز اور زاگرس کے پہاڑی سلسلے نہ صرف ایران کے قدرتی حسن میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ آبی وسائل کے تحفظ اور موسمی توازن میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ پہاڑ انسان کو عاجزی سکھاتے ہیں کہ وہ کائنات کی وسعتوں کے سامنے کتنا چھوٹا ہے۔
ایران کی تاریخ ہزاروں برسوں پر محیط ہے۔ قدیم فارس کی تہذیب نے علم، فنِ تعمیر، نظم و نسق اور ثقافت میں ایسے نقوش چھوڑے جو آج بھی دنیا کے لیے قابلِ تقلید ہیں۔ پرسیپولس کے کھنڈرات ہوں یا اصفہان کی مساجد و پل، یہ سب انسانی ذہانت اور جمالیاتی ذوق کی مثالیں ہیں، مگر ان کے پیچھے کارفرما اصل قوت وہ الٰہی حکمت ہے جس نے انسان کو عقل، تخلیق اور تعمیر کی صلاحیت عطا کی۔ تاریخ کے اتار چڑھاؤ، حملے، فتوحات اور سیاسی تغیرات کے باوجود ایران کی تہذیبی شناخت کا باقی رہنا اس بات کی علامت ہے کہ خدا جس قوم کو چاہے استقامت اور بقا عطا کرتا ہے۔
ایران کا دینی و فکری پہلو بھی قابلِ توجہ ہے۔ اسلامی انقلاب کے بعد ایرانی معاشرے میں دین اور سیاست کے باہمی تعلق پر دنیا بھر میں بحث ہوئی۔ چاہے کوئی اس ماڈل سے اتفاق کرے یا اختلاف، یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ ایرانی عوام نے اپنے مذہبی تشخص کو قومی شناخت کے ساتھ جوڑ کر ایک منفرد تجربہ پیش کیا۔ مساجد، حوزاتِ علمیہ اور علمی مراکز میں دینی تعلیم کا نظام آج بھی فعال ہے۔ یہ سب اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ایمان محض عبادت تک محدود نہیں، بلکہ اجتماعی زندگی کو بھی متاثر کرتا ہے۔
قدرت کی ایک بڑی علامت انسان کے اندر موجود حوصلہ اور مزاحمت کی قوت بھی ہے۔ ایران نے گزشتہ چند دہائیوں میں اقتصادی پابندیوں، سیاسی دباؤ اور بین الاقوامی تنازعات کا سامنا کیا، مگر اس کے باوجود وہ سائنسی تحقیق، طب، ٹیکنالوجی اور دفاعی میدان میں اپنی صلاحیتیں بڑھانے میں کامیاب رہا۔ یہ امر اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ مشکلات کے باوجود قومیں اگر خود اعتمادی اور محنت کو شعار بنائیں تو وہ ترقی کی راہیں نکال سکتی ہیں۔ یہ بھی خدا کی سنت ہے کہ وہ آزمائش کے ذریعے اقوام کی صلاحیتوں کو نکھارتا ہے۔
ایران کی ثقافت میں ادب، شاعری اور فنونِ لطیفہ کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ حافظ، سعدی، رومی اور فردوسی جیسے شعرا کی تخلیقات آج بھی روح کو تازگی بخشتی ہیں اور انسان کو اخلاق، محبت اور انسان دوستی کا درس دیتی ہیں۔ شاعری اور ادب کا یہ تسلسل اس بات کی علامت ہے کہ خدا نے انسان کو محض جسمانی وجود نہیں بلکہ روحانی گہرائی بھی عطا کی ہے۔ ایرانی معاشرے میں تہوار، روایات اور مہمان نوازی جیسے اوصاف بھی اسی تہذیبی ورثے کا حصہ ہیں۔
بین الاقوامی سیاست میں ایران کا کردار متنازع ضرور رہا ہے، مگر اس کے پس منظر میں موجود تاریخی تجربات اور خود مختاری کی خواہش کو سمجھے بغیر کسی بھی حتمی رائے تک پہنچنا مشکل ہے۔ بڑی طاقتوں کے ساتھ کشمکش کے دوران ایران نے اپنی قومی خودداری کو برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ اس عمل کو چاہے کوئی مزاحمت کہے یا سیاسی حکمتِ عملی، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ قومیں اپنی شناخت اور وقار کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرتی ہیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ عزت اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور وہ جسے چاہے عزت عطا کرتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ایران کی سرزمین، اس کی تاریخ، اس کے لوگ اور ان کے تجربات سب مل کر خدا کی قدرت کی ایک جامع تصویر پیش کرتے ہیں۔ یہ تصویر ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قدرت کی نشانیاں صرف قدرتی مناظر میں نہیں بلکہ قوموں کے عروج و زوال، انسانوں کی جدوجہد اور تہذیبوں کی بقا میں بھی جلوہ گر ہوتی ہیں۔ ایران کو اسی زاویے سے دیکھنا چاہیے کہ یہ ہمیں کائنات کے نظم، انسانی ذمہ داری اور الٰہی حکمت پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔









آپ کا تبصرہ